مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون 29 اکتوبر، 2026

۴ پیمائشیں بالمقابل: درست کرکٹ پچ

“اچھی پچ میچ کا مزاج بدل دیتی ہے۔” کرکٹ پچ کی پیمائش صرف زمین پر سفید لکیریں کھینچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کھیل کی رفتار، باؤنس، اسپن اور بلے باز کے وقت کا بنیادی فیصلہ کرتی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے م...

۴ پیمائشیں بالمقابل: درست کرکٹ پچ

۴ پیمائشیں بالمقابل: درست کرکٹ پچ

“اچھی پچ میچ کا مزاج بدل دیتی ہے۔” کرکٹ پچ کی پیمائش صرف زمین پر سفید لکیریں کھینچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ کھیل کی رفتار، باؤنس، اسپن اور بلے باز کے وقت کا بنیادی فیصلہ کرتی ہے۔ بین الاقوامی معیار کے مطابق پچ کی لمبائی ۲۲ گز، یعنی ۲۰٫۱۲ میٹر، اور چوڑائی ۱۰ فٹ، یعنی ۳٫۰۵ میٹر ہوتی ہے۔ دونوں وکٹوں کے درمیان فاصلہ ۲۰٫۱۲ میٹر رکھا جاتا ہے، جبکہ بولنگ کریز ۲٫۶۴ میٹر چوڑی ہوتی ہے۔ آئی سی سی، ایم سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ انہی بنیادی اصولوں کو استعمال کرتے ہیں۔ درست پیمائش کے لیے پہلے مرکزی محور نشان زد کریں، پھر دونوں کریز ناپیں اور آخر میں سطح کی ہمواری جانچیں۔

The Hand of Midas · Free demo

A groundskeeper measuring a regulation cricket pitch in Lahore with string, stakes, and white marking powder

کیا کرکٹ پچ واقعی ۲۲ گز کی ہوتی ہے؟

ہاں، معیاری کرکٹ پچ کی لمبائی دونوں وکٹوں کے درمیان ۲۲ گز، یعنی ۲۰٫۱۲ میٹر، ہوتی ہے؛ اس پیمائش میں کریز کے اندرونی کناروں کے درمیان فاصلہ اہم ہے۔ بین الاقوامی اور زیادہ تر ملکی مقابلوں میں یہی اصول آئی سی سی، ایم سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے قوانین کے مطابق نافذ ہوتا ہے۔

کرکٹ پچ کی پیمائش سمجھنے میں سب سے عام غلطی یہ ہے کہ لوگ ۲۲ گز کو پوری تیار شدہ پچ سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ ۲۰٫۱۲ میٹر بنیادی کھیلنے والا فاصلہ ہے؛ پچ کے دونوں سروں پر وکٹ، کریز، حفاظتی جگہ اور رن اپ الگ حصے ہوتے ہیں۔ پچ کی چوڑائی ۱۰ فٹ، یعنی ۳٫۰۵ میٹر، رکھی جاتی ہے۔ یہ چوڑائی وکٹ کے عین مرکز سے دونوں طرف برابر تقسیم کی جاتی ہے، اس لیے مرکز کی ابتدائی نشان دہی غلط ہو تو پوری پچ ٹیڑھی بن جاتی ہے۔ ایم سی سی کے قوانین میں پچ، کریز اور وکٹ سے متعلق بنیادی وضاحتیں موجود ہیں، جبکہ آئی سی سی کے کھیلنے کے ضوابط بین الاقوامی میچوں میں عملی معیار واضح کرتے ہیں۔ مختصر بات یہ ہے کہ صرف فیتہ کافی نہیں؛ مرکزی لائن، زاویہ، سطح اور دونوں سروں کی یکسانیت بھی لازمی ہے۔

درست پیمائش کے لیے یہ ترتیب رکھیں:

  1. زمین کے وسط میں شمال جنوب یا دستیاب کھیل کی سمت کے مطابق مرکزی محور کھینچیں۔
  2. محور پر ۲۰٫۱۲ میٹر کا فاصلہ نشان زد کریں۔
  3. دونوں سروں پر وکٹ کے مرکز کی جگہ مقرر کریں۔
  4. مرکز سے دونوں طرف ۱٫۵۲ میٹر ناپ کر پچ کی ۳٫۰۵ میٹر چوڑائی مکمل کریں۔
  5. ڈوری کو ترچھا ناپ کر مستطیل کے دونوں قطر برابر ہونے کی تصدیق کریں۔

یہ آخری مرحلہ معمولی نہیں۔ اگر دونوں قطر برابر نہ ہوں تو پچ مستطیل کے بجائے کجی والا چوکور بن سکتی ہے، جس سے بلے باز کو بولر کی لائن اور وکٹ کی سمت کا غیرضروری فرق محسوس ہوگا۔ کرکٹ کے بنیادی میدان کی رہنمائی میں بھی یہی اصول بیان کیا جاتا ہے، مگر مقامی میدانوں میں نکاسی آب اور مٹی کی حالت کے باعث عملی ایڈجسٹمنٹ درکار ہو سکتی ہے۔

پچ رپورٹ میں یہی پیمائشیں درج کرنا چاہتے ہیں تو پچ رپورٹ کے ماہر جائزے اور میچ کی حکمت عملی پر کرکٹ پچ رپورٹ کی مکمل رہنمائی بھی دیکھیں۔

مزید عملی اصول جاننے کا آسان راستہ یہ ہے:

مزید جانیں

مخصوص کریز کے معاملے میں پیمائش کیسے کام کرتی ہے؟

بولنگ کریز ۲٫۶۴ میٹر، پاپنگ کریز ۱٫۲۲ میٹر کم از کم، اور ریٹرن کریز ۲٫۶۴ میٹر لمبی نشان دہی سے بنتی ہے؛ تینوں کا مقصد وکٹ کے قریب قانونی حدود واضح کرنا ہے۔ پیمائش ہمیشہ وکٹ کے مرکزی محور، کریز کی سمت اور دونوں سروں کی مطابقت سے کی جاتی ہے۔

بولنگ کریز کی لمبائی ۲٫۶۴ میٹر ہوتی ہے اور یہ تینوں اسٹمپ کے سامنے افقی لکیر بناتی ہے۔ پاپنگ کریز بولنگ کریز کے متوازی ہوتی ہے، مگر اس کی کم از کم لمبائی ۱٫۲۲ میٹر رکھی جاتی ہے؛ عملی میدانوں میں اسے زیادہ لمبا بھی بنایا جا سکتا ہے تاکہ رن آؤٹ، کریز سے باہر قدم اور امپائر کے فیصلے واضح رہیں۔ پاپنگ کریز کا اگلا کنارہ وکٹ کے مرکز سے ۱٫۲۲ میٹر آگے ہونا چاہیے۔ ریٹرن کریز بولنگ کریز کے عمود میں بنتی ہے اور اس کا اندرونی کنارہ پاپنگ کریز کے بیرونی سرے سے جڑا رہتا ہے۔ یہاں ایک اہم باریکی ہے: سفید لکیر کی موٹائی کو ناپنے کے بجائے قانون میں متعین اندرونی یا بیرونی کنارے کو معیار بنائیں، ورنہ ہر سرے پر چند سینٹی میٹر کا فرق جمع ہو جاتا ہے۔ ایم سی سی کی تعریف کے مطابق کریز کا مقصد صرف آرائش نہیں، بلکہ بلے باز کے محفوظ مقام اور بولر کے قانونی ایکشن کی حد واضح کرنا ہے۔ اس لیے سستا چونا، ڈھیلی رسی یا آنکھ کا اندازہ استعمال کرنا بعد میں جھگڑا ہی پیدا کرتا ہے۔

کریز بناتے وقت یہ چیزیں الگ الگ نوٹ کریں:

  • وکٹ کے تین اسٹمپ کا مرکزی نقطہ۔
  • بولنگ کریز کی ۲٫۶۴ میٹر لمبائی۔
  • پاپنگ کریز کا وکٹ سے ۱٫۲۲ میٹر فاصلہ۔
  • دونوں ریٹرن کریز کی عمودی سمت۔
  • لائن کی موٹائی، چمک اور مٹی سے چپکنے کی کیفیت۔
  • دونوں سروں پر ایک جیسی پیمائش اور زاویہ۔

ایک عملی مگر کم بیان کیا جانے والا نکتہ یہ ہے کہ کریز کی نشان دہی سے پہلے سطح کو ہلکا نم کرنا بہتر رہتا ہے، خاص طور پر لاہور یا کراچی جیسے گرم میدانوں میں جہاں خشک مٹی چونا فوراً جذب نہیں کرتی۔ تاہم زیادہ پانی سطح کو نرم کر دیتا ہے اور لائن پھیلنے لگتی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مقامی گراؤنڈ عملے کے لیے اس مرحلے میں موسم، مٹی اور رولر کے دباؤ کا ریکارڈ رکھنا مفید ہے۔ اگر میچ ٹی ٹوئنٹی ہو تو پاپنگ کریز کی وضاحت زیادہ اہم محسوس ہوتی ہے، کیونکہ تیز سنگلز، ڈائریکٹ تھرو اور معمولی قدم کے فیصلے زیادہ کثرت سے آتے ہیں۔ ٹیسٹ کرکٹ میں بھی یہی پیمائش رہتی ہے؛ فارمیٹ بدلنے سے پچ کی قانونی لمبائی نہیں بدلتی۔

پچ کی سطح اور کریز کی درستگی کو ایک ہی شیٹ پر درج کرنے کا طریقہ یہاں دیکھیں:

مزید جانیں

بارش، ڈھلوان اور مختصر میدان میں کیا ہوگا؟

بارش یا محدود جگہ میں پچ کی قانونی لمبائی کم نہیں کی جا سکتی؛ اگر ۲۰٫۱۲ میٹر دستیاب نہ ہو تو میدان کو باقاعدہ کرکٹ پچ کے بجائے تربیتی یا غیررسمی میدان سمجھنا چاہیے۔ ڈھلوان، نرم مٹی اور ناقص نکاسی آب پیمائش کو نہیں بدلتے، مگر کھیل کی حفاظت اور میچ کی منظوری ضرور متاثر کر سکتے ہیں۔

یہاں اکثر منتظم جلد بازی کرتے ہیں، پھر میچ کے دوران مسئلہ سامنے آتا ہے۔ پچ کی لمبائی ۲۰٫۱۲ میٹر رکھتے ہوئے اطراف میں مناسب رن اپ، کھلاڑیوں کی نقل و حرکت اور باؤنڈری سے محفوظ فاصلہ بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اگر جگہ کم ہو تو وکٹوں کو قریب لانا حل نہیں، کیونکہ اس سے بولنگ کی رفتار، بلے باز کے ردعمل اور امپائر کے فیصلے سب مصنوعی ہو جاتے ہیں۔ بچوں کے مقابلوں، ٹیپ بال یا تربیتی سیشن کے لیے مختصر پچ استعمال کی جا سکتی ہے، مگر اسے واضح طور پر عمر، مہارت اور فارمیٹ کے مطابق نامزد کریں۔ مثال کے طور پر ۱۶ میٹر کی تربیتی پچ مفید ہو سکتی ہے، لیکن اسے ۲۲ گز کی معیاری پچ نہ لکھیں۔ یہی فرق پچ رپورٹ، کوچنگ پلان اور اعدادوشمار میں صاف رہنا چاہیے۔ آئی سی سی کے مطابق منظور شدہ میچ میں کھیلنے کی شرائط، میدان کی حفاظت اور امپائر کا اطمینان بنیادی حیثیت رکھتے ہیں؛ مقامی منتظم کو صرف سفید لکیروں کی موجودگی پر بھروسا نہیں کرنا چاہیے۔

بارش کے بعد یہ جانچ لازمی کریں:

  1. ۲۰٫۱۲ میٹر کی مرکزی لائن دوبارہ ناپیں، کیونکہ نرم زمین میں نشان سرک سکتے ہیں۔
  2. دونوں وکٹوں کے سامنے پانی جمع ہونے کی گہرائی دیکھیں۔
  3. پاپنگ کریز کے قریب پھسلن، دراڑ اور دبی ہوئی مٹی کی جانچ کریں۔
  4. ڈھلوان کو ہموار سطحی آلے سے مختلف مقامات پر پرکھیں۔
  5. امپائر، گراؤنڈ عملے اور کپتانوں کو مشاہدات تحریری طور پر بتائیں۔

ایک مفید معلوماتی فرق یہ ہے کہ پچ کی لمبائی درست ہونے کے باوجود کھیل غیرمحفوظ ہو سکتا ہے۔ اگر ایک سرہ دوسرے سے ۴۰ ملی میٹر نیچا ہو تو گیند کے ٹپے، رفتار اور کھلاڑی کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے، خاص طور پر تیز بولر کے رن اپ میں۔ یہ عدد قانونی پچ کی نئی حد نہیں، بلکہ عملی معائنے کے لیے محتاط انتباہ سمجھیں؛ حتمی فیصلہ مجاز گراؤنڈ عملہ اور امپائر کریں گے۔ نکاسی آب کے لیے پچ کے نیچے پرت، اطراف کی ڈھلوان اور بارش کے بعد خشک ہونے کا وقت بھی درج کریں۔ یہی معلومات اگلے میچ کے ٹاس سے پہلے فیصلہ لینے میں مدد دیتی ہے، ورنہ کپتان صرف ظاہری خشک سطح دیکھ کر غلط اندازہ لگا لیتا ہے۔

پچ کی حالت کو بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی سے جوڑنے کے لیے بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی ملاحظہ کریں۔

Rain-covered cricket ground in Karachi with a protected pitch, drainage channels, and anxious match officials

کرکٹ پچ کی پیمائش کہاں ناکام ہوتی ہے؟

کرکٹ پچ کی پیمائش عموماً چار جگہ ناکام ہوتی ہے: مرکزی نقطہ غلط مقرر ہونا، فیتہ ترچھا رکھنا، کریز کے غلط کنارے کو معیار بنانا، اور نرم زمین میں دوبارہ تصدیق نہ کرنا۔ ان غلطیوں سے پچ بظاہر درست دکھائی دے سکتی ہے، مگر وکٹ، کریز اور گیند کے راستے میں قابلِ ذکر فرق پیدا ہو جاتا ہے۔

پہلی خرابی اس وقت آتی ہے جب وکٹ کے تین اسٹمپ نصب کرنے کے بعد مرکز معلوم کیا جاتا ہے، مگر اسٹمپ خود برابر فاصلے پر نہیں لگے ہوتے۔ پہلے مرکز اور محور طے کریں، پھر اسٹمپ لگائیں۔ دوسری خرابی فیتے کی ہے: ۲۰٫۱۲ میٹر کا فیتہ اگر زمین پر خم کھائے یا دو افراد اسے مختلف بلندی پر پکڑیں تو ناپ کم یا زیادہ آ سکتا ہے۔ تیسری خرابی کریز کی سفید پٹی ہے؛ لکیر کی موٹائی دونوں سروں پر یکساں نہ ہو تو پاپنگ کریز کا مؤثر فاصلہ بدل سکتا ہے۔ چوتھی خرابی بارش، رولر یا پچ کی مرمت کے بعد دوبارہ پیمائش نہ کرنا ہے۔ موسم اور زمین کی حالت کے باعث ایک ہی دن میں صبح اور شام کی سطح مختلف ہو سکتی ہے، خاص طور پر ملتان، راولپنڈی اور کولمبو جیسے مختلف موسم رکھنے والے مقامات میں۔ ایم سی سی کے قانون ۶ میں پچ کی سمت، لمبائی اور چوڑائی سے متعلق تعریفیں موجود ہیں، جبکہ قانون ۷ کریز کی پیمائش کے عملی پہلو کو واضح کرتا ہے؛ قوانین پڑھنا مشکل نہیں، ان پر عمل میں سستی مشکل پیدا کرتی ہے۔

خرابی پکڑنے کے لیے یہ مختصر فہرست استعمال کریں:

  • دونوں قطروں کی لمبائی برابر ہے یا نہیں؟
  • وکٹ کے مرکز سے پچ کی دونوں جانب چوڑائی برابر ہے یا نہیں؟
  • ۲٫۶۴ میٹر بولنگ کریز دونوں سروں پر ایک جیسی ہے یا نہیں؟
  • پاپنگ کریز کا کم از کم ۱٫۲۲ میٹر فاصلہ برقرار ہے یا نہیں؟
  • رن اپ میں سوراخ، پھسلن یا غیرمساوی دباؤ تو نہیں؟
  • پیمائش کی تاریخ، موسم اور استعمال شدہ آلے کا ریکارڈ موجود ہے یا نہیں؟

یہاں ایک کم معروف عملی نکتہ کام آتا ہے: لیزر پیمائش کرنے والا آلہ سطح کے اتار چڑھاؤ کو درست فاصلہ سمجھ سکتا ہے، اس لیے افقی فاصلہ اور سطح کے ساتھ چلنے والا فاصلہ الگ نہ کریں۔ معیاری کرکٹ پچ کے لیے افقی منصوبہ بندی کا فاصلہ اہم ہے، جبکہ سطحی معائنہ الگ مرحلہ ہے۔ اسی طرح موبائل فون کا زاویہ ناپنے والا آلہ مفید معاون ہو سکتا ہے، مگر اسے پیشہ ورانہ سطحی سروے کا متبادل نہ سمجھیں۔ پچ رپورٹ میں کم از کم دو آزاد پیمائشیں، پیمائش کرنے والے افراد کے نام، وقت اور استعمال شدہ اکائی درج کریں۔ یہ معمولی کاغذی کام بعد میں امپائر کے سوال، ٹیم کے اعتراض یا گراؤنڈ کی مرمت کے وقت بہت کام آتا ہے۔ پچ رپورٹ کے ڈیٹا کو میچ کے اعدادوشمار کے ساتھ جوڑنے کے لیے کرکٹ میچ کے اعدادوشمار پڑھنے کا طریقہ مددگار ہے۔

Two ground staff members checking cricket pitch diagonals with measuring tape beside red stumps under bright sunlight

کیا آج کرکٹ پچ کی پیمائش کرنی چاہیے؟

ہاں، آج ہی پیمائش کریں اگر میدان میں نئی وکٹ بن رہی ہے، بارش کے بعد میچ ہونا ہے، کریز دھندلی ہے یا رن اپ کی مرمت ہوئی ہے؛ مکمل جانچ میں عموماً ۳۰ سے ۶۰ منٹ لگ سکتے ہیں۔ اگر صرف باقاعدہ میدان کی معمول کی نگرانی ہو تو میچ سے پہلے بصری معائنہ اور اہم فاصلوں کی دوبارہ تصدیق کافی رہتی ہے۔

اچھا وقت وہ ہے جب میدان خالی ہو اور روشنی یکساں ہو۔ پہلے ۲۰٫۱۲ میٹر لمبائی، ۳٫۰۵ میٹر چوڑائی، ۲٫۶۴ میٹر بولنگ کریز اور ۱٫۲۲ میٹر پاپنگ کریز درج کریں، پھر سطح، نمی، دراڑ اور رن اپ دیکھیں۔ کم از کم دو افراد پیمائش کریں؛ ایک فیتہ سنبھالے اور دوسرا مرکزی محور، اعداد اور نشان دہی کی نگرانی کرے۔ ۳۰ میٹر کا معیاری فیتہ، ڈوری، دھاتی کیل، چونا، سطح جانچنے کا آلہ اور ریکارڈ شیٹ کافی بنیادی سامان ہے۔ مہنگا آلہ خریدنے سے پہلے طریقہ درست کریں، کیونکہ غلط مرکز کے ساتھ جدید آلہ بھی غلط جواب دے گا۔ پچ رپورٹ برانڈ، پچ رپورٹ، اسی لیے تجویز دیتا ہے کہ ہر میدان کی مستقل فائل بنائی جائے جس میں زمین کا نام، شہر، آخری رولنگ، بارش، مٹی کی قسم اور پیمائش کی تاریخ درج ہو۔ لاہور کے خشک دن، کراچی کی سمندری نمی اور راولپنڈی کی بارش ایک ہی سطح کو مختلف طریقے سے متاثر کر سکتے ہیں۔ میچ سے پہلے کپتانوں کو بنیادی مشاہدات بتانا شفافیت ہے، کسی ٹیم کو فائدہ دینا نہیں۔

آخری منظوری سے پہلے یہ چار چیزیں دیکھیں:

  1. دونوں وکٹیں ایک ہی مرکزی محور پر ہیں۔
  2. کریز واضح، متوازی اور مقررہ فاصلوں پر ہیں۔
  3. سطح میں خطرناک گڑھا، پھسلن یا پانی نہیں۔
  4. پیمائش اور معائنہ کا وقت تحریری ریکارڈ میں موجود ہے۔

اہم نتیجہ یہ ہے کہ درست کرکٹ پچ کی پیمائش صرف ۲۲ گز ناپنے تک محدود نہیں۔ ۲۰٫۱۲ میٹر لمبائی کھیل کا قانونی ڈھانچہ دیتی ہے، ۳٫۰۵ میٹر چوڑائی گیند اور بلے کے مقابلے کا میدان بناتی ہے، جبکہ کریز کی درست نشان دہی فیصلوں کو قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ اگر میدان مختصر یا غیررسمی ہو تو اسے اسی نام سے بیان کریں؛ چھوٹی پچ کو معیاری پچ کہنے سے کوچنگ ڈیٹا، کھلاڑیوں کی کارکردگی اور میچ رپورٹ سب خراب ہو سکتے ہیں۔ اس بنیادی احتیاط پر بحث کی گنجائش کم ہے، اور یہی بات اکثر نظرانداز ہوتی ہے۔

اپنے گراؤنڈ کے لیے پیمائش کی فہرست محفوظ کرنا ہو تو یہ آخری رہنمائی دیکھیں:

مزید جانیں

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کرکٹ پچ کی معیاری لمبائی کیا ہے؟

جواب: کرکٹ پچ کی معیاری لمبائی ۲۲ گز، یعنی ۲۰٫۱۲ میٹر، ہوتی ہے۔ یہ فاصلہ دونوں وکٹوں کے مرکزی مقامات کے درمیان رکھا جاتا ہے اور ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بنیادی طور پر یکساں رہتا ہے۔ پچ کے اضافی رن اپ یا میدان کی مجموعی لمبائی اس ۲۰٫۱۲ میٹر میں شامل نہیں ہوتی۔ مقامی تربیتی میدان اس سے چھوٹے ہو سکتے ہیں، مگر انہیں معیاری پچ نہیں کہنا چاہیے۔

سوال: کرکٹ پچ کی چوڑائی کتنی ہوتی ہے؟

جواب: معیاری کرکٹ پچ کی چوڑائی ۱۰ فٹ، یعنی تقریباً ۳٫۰۵ میٹر، ہوتی ہے۔ یہ چوڑائی مرکزی محور کے دونوں طرف برابر تقسیم کی جاتی ہے، اس لیے پہلے مرکز درست مقرر کرنا ضروری ہے۔ چوڑائی کم یا زیادہ ہونے سے گیند کے زاویے، فیلڈنگ کی جگہ اور پچ کی ظاہری سمت متاثر ہو سکتی ہے۔ پیمائش کے وقت دونوں قطر برابر ناپنا مستطیل کی درستگی جانچنے کا آسان طریقہ ہے۔

سوال: بولنگ کریز اور پاپنگ کریز میں کیا فرق ہے؟

جواب: بولنگ کریز ۲٫۶۴ میٹر لمبی لکیر ہے، جبکہ پاپنگ کریز وکٹ سے کم از کم ۱٫۲۲ میٹر آگے بنائی جاتی ہے۔ بولنگ کریز بولر کے قانونی اختتامی مقام کی حد واضح کرتی ہے، جبکہ پاپنگ کریز بلے باز کے محفوظ مقام اور رن آؤٹ فیصلے میں اہم ہوتی ہے۔ دونوں لکیریں متوازی رہنی چاہییں اور ان کی سمت مرکزی محور سے درست جڑی ہونی چاہیے۔

سوال: بارش کے بعد کرکٹ پچ کی پیمائش کیسے کی جائے؟

جواب: بارش کے بعد پہلے پانی، پھسلن اور نرم مٹی کا معائنہ کریں، پھر ۲۰٫۱۲ میٹر لمبائی اور کریز کے فاصلوں کی دوبارہ تصدیق کریں۔ نرم زمین میں نشان سرک سکتے ہیں، اس لیے صرف پرانی سفید لکیروں پر بھروسا نہ کریں۔ رن اپ، پاپنگ کریز کے سامنے کا حصہ اور دونوں وکٹوں کے قریب نمی الگ الگ درج کریں۔ حتمی فیصلہ گراؤنڈ عملہ اور امپائر حفاظت کے مشاہدے کی بنیاد پر کریں۔

سوال: کرکٹ پچ کی پیمائش کے لیے کون سا سامان چاہیے؟

جواب: بنیادی پیمائش کے لیے کم از کم ۳۰ میٹر کا فیتہ، مضبوط ڈوری، دھاتی کیل، چونا، سطح جانچنے کا آلہ اور ریکارڈ شیٹ درکار ہوتی ہے۔ دو افراد مل کر کام کریں تو مرکزی محور اور فاصلوں کی غلطی کم رہتی ہے۔ لیزر یا موبائل آلہ معاون ہو سکتا ہے، مگر نرم یا ناہموار سطح پر اسے واحد معیار نہ بنائیں۔ پیمائش کی تاریخ، موسم اور آلے کا نام بھی درج کریں۔

سوال: اگر میدان میں ۲۲ گز جگہ نہ ہو تو کیا کیا جائے؟

جواب: اگر ۲۰٫۱۲ میٹر کا قانونی فاصلہ دستیاب نہ ہو تو میدان کو تربیتی یا غیررسمی پچ کے طور پر استعمال کریں، باقاعدہ کرکٹ پچ کے طور پر نہیں۔ مختصر پچ بچوں، کوچنگ یا ٹیپ بال کے لیے مفید ہو سکتی ہے، مگر اس کی لمبائی، عمر کے گروہ اور فارمیٹ کو پہلے واضح کریں۔ وکٹیں قریب کرنے سے کھیل کی رفتار اور اعدادوشمار معیاری کرکٹ سے مختلف ہو جائیں گے۔

اختتامی رہنمائی بھی محفوظ کر لیں، کیونکہ اگلی بار اندازے سے ناپنے کی ضرورت نہیں پڑے گی:

مزید جانیں

متعلقہ مضامین