مواد پر جائیں مواد پر جائیں
مضمون 16 اکتوبر، 2026

ایم سی سی کے اندر: ایل بی ڈبلیو کے 5 مرحلے

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کے تحت بلے باز اس وقت آؤٹ ہو سکتا ہے جب گیند، نو بال نہ ہو، پہلے بلے سے نہ لگے اور جسم کے کسی حصے سے ٹکرا کر وکٹ کو لگنے والی ہو؛ یہ فیصلہ ایم سی سی کے قانون 36 اور آئی سی....

ایم سی سی کے اندر: ایل بی ڈبلیو کے 5 مرحلے

ایم سی سی کے اندر: ایل بی ڈبلیو کے 5 مرحلے

کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو قانون کے تحت بلے باز اس وقت آؤٹ ہو سکتا ہے جب گیند، نو بال نہ ہو، پہلے بلے سے نہ لگے اور جسم کے کسی حصے سے ٹکرا کر وکٹ کو لگنے والی ہو؛ یہ فیصلہ ایم سی سی کے قانون 36 اور آئی سی سی کے موجودہ ضوابط کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ یہ اصول ٹیسٹ، ایک روزہ اور ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں یکساں بنیادی ڈھانچہ رکھتا ہے، اگرچہ ریویو کا طریقہ مقابلے کے لحاظ سے بدل سکتا ہے۔ اہم اعداد یہ ہیں: گیند کا پچ ہونا لیگ اسٹمپ کے باہر ہو تو ایل بی ڈبلیو نہیں، جبکہ “نو شاٹ” صورت میں پچنگ کی پابندی ختم ہو جاتی ہے؛ گیند کا پہلے بلے سے لگنا بھی فیصلہ بدل دیتا ہے۔ سب سے درست طریقہ یہ ہے کہ پچنگ، رابطے کا مقام اور وکٹ سے ٹکرانے کے امکان کو الگ الگ جانچیں۔

A cricket umpire raising one finger beside stumps while a batter stands motionless under stadium lights

کرکٹ کے مشہور جملے “قانون جاننا کھیل کا آدھا ہنر ہے” کی اصل اہمیت ایل بی ڈبلیو میں سامنے آتی ہے۔ پچ پر معمولی سا زاویہ، فرنٹ پیڈ کی چند انچ پوزیشن یا گیند کے بلے سے لگنے کا لمحہ پورا فیصلہ بدل دیتا ہے۔ پچ رپورٹ، کھلاڑیوں کے اعداد اور میچ کے اہم موڑ دیکھنے کے لیے پچ رپورٹ کے پلیٹ فارم پچ رپورٹ پر بھی متعلقہ تجزیہ تلاش کیا جا سکتا ہے؛ وہاں کرکٹ، پی ایس ایل، بیٹنگ اور باؤلنگ حکمت عملی پر روزانہ بصیرت ملتی ہے۔

اگر آپ بنیادی قانون کے ساتھ ریویو کی منطق بھی سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ مختصر رہنمائی محفوظ کرلیں۔

مزید جانیں

مرحلہ 1: ایل بی ڈبلیو کی بنیادی شرط کیا ہے؟

ایل بی ڈبلیو اس وقت بنتا ہے جب گیند نو بال نہ ہو، بلے باز کے جسم سے وکٹوں کے سامنے ٹکرائے، گیند پہلے بلے سے نہ لگی ہو، اور اس کے راستے کا جائزہ لینے پر معلوم ہو کہ وہ وکٹ سے ٹکراتی۔ اس کے علاوہ گیند کا پچنگ مقام اور بلے باز کا شاٹ کھیلنے کا ارادہ بھی فیصلہ کن رہتے ہیں۔

قانون 36 کے چار بنیادی سوال

امپائر کو بظاہر ایک ہی لمحے میں یہ سوالات حل کرنے پڑتے ہیں:

  1. کیا گیند نو بال تھی؟
  2. کیا گیند پہلے بلے سے ٹکرائی؟
  3. جسم سے رابطہ وکٹوں کے سامنے ہوا؟
  4. گیند کا متوقع راستہ اسٹمپ سے جا ٹکراتا؟

بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے کھیلنے کی شرائط اور ایم سی سی کے قوانینِ کرکٹ اس عمل کی بنیادی اتھارٹی ہیں۔ ایم سی سی کے قانون 36 کی روح یہ ہے کہ ایل بی ڈبلیو صرف پیڈ پر لگنے کا نام نہیں؛ گیند کی سمت، رابطے کی جگہ اور وکٹ سے ٹکراؤ تین الگ امتحان ہیں۔ اسی لیے آف اسٹمپ کے باہر پیڈ لگنے والی گیند کبھی آؤٹ ہو سکتی ہے اور کبھی نہیں، جبکہ لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند عام طور پر ناٹ آؤٹ رہتی ہے۔ یہاں ایک باریک نکتہ بھی ہے: گیند جسم کے کسی بھی حصے، مثلاً ران، گھٹنے یا جوتے سے لگ سکتی ہے؛ صرف پیڈ کا چھونا لازمی نہیں۔ اس لیے اپیل کرتے وقت “پیڈ” کہنا تکنیکی طور پر ادھورا ہے، اور تم لوگ یہی چھوٹی غلطی بار بار کرتے ہو۔

کرکٹ کے بنیادی قوانین کی مکمل رہنمائی

مرحلہ 2: گیند کہاں پچ ہوئی، یہ کیسے طے ہوتا ہے؟

گیند کا پچنگ مقام ایل بی ڈبلیو کا پہلا بڑا فلٹر ہے؛ اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو اور بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی ہو، تو عام طور پر ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ گیند آف اسٹمپ کے باہر، آف اسٹمپ پر یا وکٹوں کے درمیان پچ ہو تو باقی شرائط پوری ہونے کی صورت میں آؤٹ دیا جا سکتا ہے۔

یہاں “پچنگ زون” اور “رابطے کا زون” کو خلط ملط نہ کریں۔ مثال کے طور پر گیند آف اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی، اندر آئی، اور فرنٹ پیڈ لیگ اسٹمپ کے سامنے لگا؛ اگر بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش کی تھی اور گیند اسٹمپ سے ٹکراتی، تو ایل بی ڈبلیو ممکن ہے۔ اس کے برعکس گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہوئی تو شاٹ کھیلنے یا نہ کھیلنے کا سوال عموماً نتیجہ نہیں بدلتا، کیونکہ قانون کا بنیادی اخراج پہلے ہی لاگو ہو جاتا ہے۔ جدید ڈی آر ایس میں ہاک آئی یا اسی نوعیت کا بال ٹریکنگ نظام پچنگ مقام دکھاتا ہے، مگر ٹیکنالوجی بھی امپائر کے اصل فیصلے اور دستیاب فریموں کے تابع رہتی ہے۔ 2026 میں بھی “امپائرز کال” پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کے الگ الگ حصوں پر لاگو ہو سکتی ہے۔

Hawk-Eye ball tracking graphic showing a delivery pitching outside leg stump and missing the wickets

یہی وہ نکتہ ہے جس پر کئی ٹیلی ویژن تجزیے جلدی میں غلط تاثر دیتے ہیں: گیند کا آخر میں اسٹمپ کی طرف جانا کافی نہیں، اس کا پچ ہونا بھی قانونی حدود میں ہونا چاہیے۔

تفصیل کو ایک جگہ منظم انداز میں دیکھنے کے لیے یہ متعلقہ حوالہ بھی مفید ہے۔

قانون کی تفصیل دیکھیں

مرحلہ 3: گیند پہلے بلے سے لگی یا جسم سے؟

اگر گیند پہلے بلے سے ٹکراتی ہے اور اس کے بعد جسم یا پیڈ کو لگتی ہے، تو ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جا سکتا؛ رابطہ بہت معمولی ہو تب بھی یہی اصول ہے۔ اگر گیند بلے اور جسم سے تقریباً ایک ہی وقت ٹکرائے، تو قانون میں بلے سے لگنے کو ترجیح دی جاتی ہے، اس لیے فیصلہ ناٹ آؤٹ کی طرف جا سکتا ہے۔

امپائر اور ریویو کن چیزوں کو دیکھتے ہیں؟

سلو موشن میں درج ذیل نکات اہم ہوتے ہیں:

  • بلے کا کنارہ گیند کے راستے میں تھا یا نہیں۔
  • پیڈ اور بلے کے درمیان فاصلہ کتنا تھا۔
  • رابطے کے لمحے گیند پہلے کس چیز سے ٹکرائی۔
  • آواز یا الٹرا ایج سے بلے کا معمولی کنارہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔

آئی سی سی کے ڈی آر ایس میں فیصلہ صرف آواز پر نہیں ہوتا؛ الٹرا ایج، سنکرو نائزڈ ویڈیو اور بال ٹریکنگ الگ الگ شواہد فراہم کرتے ہیں۔ ایک عملی مگر کم بیان کیا جانے والا نکتہ یہ ہے کہ بلے کے پیچھے پیڈ کا بہت قریب ہونا ریویو کو مشکل بناتا ہے، کیونکہ کیمرے کے فریم میں رابطے کی ترتیب صاف نہ رہے تو تھرڈ امپائر دستیاب ثبوت پر انحصار کرتا ہے۔ “گیند نے پیڈ کو پہلے چھوا” کہنا کافی نہیں، جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ بلے سے پہلے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے بیٹر کو فرنٹ فٹ پر بلاوجہ پیڈ آگے رکھنے کے بجائے بلے کو جسم کے سامنے لانا چاہیے؛ یہ تکنیک صرف رنز نہیں بچاتی، وکٹ کا خطرہ بھی کم کرتی ہے۔

بیٹنگ فٹ ورک اور فرنٹ فٹ دفاع

مرحلہ 4: امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کیسے جانچی جاتی ہے؟

امپیکٹ سے مراد گیند کا جسم سے ٹکرانے کا مقام ہے، جبکہ وکٹ ہٹنگ سے مراد یہ ہے کہ اگر جسم رکاوٹ نہ بنتا تو گیند اسٹمپ سے ٹکراتی یا نہیں۔ شاٹ کھیلنے کی حقیقی کوشش کی صورت میں امپیکٹ وکٹوں کے سامنے ہونا ضروری ہے؛ نو شاٹ کی صورت میں یہ شرط زیادہ وسیع ہو جاتی ہے، مگر گیند کا اسٹمپ سے ٹکرانا پھر بھی لازمی رہتا ہے۔

ایم سی سی کے مطابق، اگر بلے باز نے گیند کو کھیلنے کی کوشش نہیں کی یا گیند کو چھوڑ دیا، تو لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ والی پابندی اسی انداز میں لاگو نہیں رہتی۔ تاہم اسے “ہر نو شاٹ ایل بی ڈبلیو ہے” سمجھنا سنگین غلطی ہے۔ گیند اگر بہت باہر جا رہی ہو، بلے باز کے جسم سے وکٹوں کے برابر رابطہ نہ ہو، یا بال ٹریکنگ کے مطابق اسٹمپ کے اوپر سے گزر رہی ہو، تو آؤٹ نہیں ہوگا۔ اصل امپائر کا فیصلہ بھی ریویو میں مکمل طور پر اسی وقت بدلا جاتا ہے جب ٹیکنالوجی واضح ثبوت دے؛ محدود اوورز کے مقابلوں میں ڈی آر ایس کی تعداد، ریویو ونڈو اور امپائرز کال مقابلے کے ضابطے سے طے ہوتے ہیں۔ میچ ریفری، آئی سی سی اور میزبان بورڈ کے قواعد کو ایک ہی چیز سمجھنا بھی درست نہیں۔

ایک صاف مثال

فرض کریں گیند آف اسٹمپ پر پچ ہوئی، بلے باز نے شاٹ نہیں کھیلا، فرنٹ پیڈ درمیانی اسٹمپ کے سامنے لگا اور بال ٹریکنگ نے تینوں اسٹمپ کا بڑا حصہ متاثر دکھایا۔ یہ ایل بی ڈبلیو ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر وہی گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہو، تو باقی منظر یکساں ہونے کے باوجود فیصلہ ناٹ آؤٹ ہوگا۔

قوانین کے اصل متن اور مقابلے کی شرطیں ساتھ پڑھنے سے یہ فرق فوراً واضح ہو جاتا ہے۔

ریویو کا طریقہ سمجھیں

مرحلہ 5: فیصلے کی تصدیق کیسے کی جائے؟

ایل بی ڈبلیو فیصلے کی تصدیق میں پہلے نو بال، پھر بلے سے رابطہ، اس کے بعد پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ دیکھی جاتی ہے؛ یہی ترتیب غیر ضروری بحث کم کرتی ہے۔ ریویو میں آن فیلڈ امپائر کا فیصلہ اس وقت بدلتا ہے جب دستیاب شواہد قانون کے مطابق واضح طور پر مختلف نتیجہ دکھائیں۔

تصدیقی فہرست

  1. فاسٹ بولر کے اگلے پاؤں کی لائن دیکھیں؛ نو بال ہو تو ایل بی ڈبلیو ختم۔
  2. الٹرا ایج یا ویڈیو سے بلے کا پہلے رابطہ جانچیں۔
  3. پچنگ زون کو لیگ اسٹمپ کے باہر، آف اسٹمپ کے باہر یا وکٹوں کے درمیان رکھیں۔
  4. رابطے کے وقت بلے باز کی شاٹ کھیلنے کی کوشش نوٹ کریں۔
  5. امپیکٹ کو اسٹمپ کے سامنے جانچیں۔
  6. بال ٹریکنگ سے وکٹ ہٹنگ دیکھیں۔
  7. امپائرز کال ہو تو مقابلے کے ریویو ضابطے کے مطابق اصل فیصلہ برقرار رکھیں۔

ڈی آر ایس اور امپائرز کال کی وضاحت

ایم سی سی کی قانونی زبان کا اردو مفہوم یہ ہے: “گیند کے جسم سے ٹکرانے کے بعد وکٹ سے لگنے کا امکان قانون کی بنیادی شرط ہے۔” اسے لفظی پیش گوئی نہ سمجھو؛ یہ بال ٹریکنگ کی نسبت اور قانون کے معیار کی وضاحت ہے۔ ایک مفید عملی طریقہ یہ ہے کہ اسکورکارڈ میں صرف “ایل بی ڈبلیو” نہ دیکھیں، کمنٹری میں پچنگ، امپیکٹ اور ریویو کا نتیجہ بھی پڑھیں۔ مثال کے طور پر “امپیکٹ ان لائن، وکٹ ہٹنگ امپائرز کال” مکمل تکنیکی صورت حال بتاتا ہے، جبکہ صرف “ناٹ آؤٹ” وجہ نہیں بتاتا۔ یہی تفصیل پچ رپورٹ کے میچ جائزوں میں بیٹنگ کی غلطی اور باؤلر کی لائن سمجھنے کے لیے خاصی اہم ہے۔

Third umpire reviewing an LBW decision with ball tracking, replay screens, and match officials nearby

عام ناکامیاں: ایل بی ڈبلیو کی غلط تشریح کیوں ہوتی ہے؟

ایل بی ڈبلیو کی عام غلطی یہ ہے کہ لوگ پیڈ پر لگنے کو خودکار آؤٹ سمجھتے ہیں، حالانکہ نو بال، پہلے بلے سے رابطہ، پچنگ مقام، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ سب الگ شرائط ہیں۔ دوسرا مسئلہ ریویو گرافکس کو مکمل سچ سمجھنا ہے؛ امپائرز کال اور مقابلے کے مخصوص ڈی آر ایس ضابطے نتیجے پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

عام غلط فہمیاں اور درستگی

  • ہر پیڈ اپیل آؤٹ نہیں: پیڈ سے رابطہ صرف ایک مرحلہ ہے۔
  • لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ ہمیشہ آؤٹ نہیں: شاٹ کی کوشش موجود ہو تو یہ اخراج عموماً فیصلہ روک دیتا ہے۔
  • نو شاٹ کا مطلب خودکار ایل بی ڈبلیو نہیں: گیند پھر بھی وکٹ سے ٹکرانے والی ہونی چاہیے۔
  • پہلے بلے سے لگنے پر ایل بی ڈبلیو نہیں: معمولی اندرونی کنارہ بھی اہم ہو سکتا ہے۔
  • امپائرز کال غلطی نہیں: یہ ٹیکنالوجی اور قانون کے مقررہ فیصلے کا حصہ ہے۔
  • اپیل کی آواز کافی نہیں: امپائر کو قانون کی ہر شرط پوری دیکھنی ہوتی ہے۔

ایک کم مشہور مگر اہم زاویہ یہ ہے کہ جسم سے رابطہ صرف پیڈ پر ہونا ضروری نہیں؛ ران یا جوتا بھی قانون کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ اسی طرح گیند کا “اسٹمپ کو چھونا” اور “اسٹمپ سے ٹکرانے کی پیش گوئی” الگ تصورات ہیں، کیونکہ ایل بی ڈبلیو میں وکٹ پہلے ہی جسم سے محفوظ ہو چکی ہوتی ہے۔ باؤلر کے لیے عملی سبق یہ ہے کہ سیدھی لائن اور مناسب فل لینتھ اپیل کا امکان بڑھاتی ہے، مگر سوئنگ یا اسپن سے گیند باہر نکل جائے تو بہترین اپیل بھی ناکام ہو سکتی ہے۔ بلے باز کے لیے سبق سادہ ہے: گیند کی لائن کے پیچھے سر رکھو، بلے کو پیڈ کے سامنے رکھو، اور فرنٹ پیڈ کو بے وجہ اسٹمپ کے راستے میں نہ لاؤ۔

Batter practicing forward defense against a swing bowler, front pad aligned carefully with middle stump

مزید تکنیکی مثالوں کے لیے پچ رپورٹ کے باؤلنگ لائن اور لینتھ کا تجزیہ کو بھی دیکھیں۔

خلاصہ: پانچ مرحلوں کو ایک فیصلے میں کیسے جوڑیں؟

درست ایل بی ڈبلیو فیصلہ پانچ مرحلوں کا مجموعہ ہے: نو بال کی جانچ، پہلے بلے سے رابطے کی جانچ، گیند کے پچنگ مقام کی جانچ، جسم سے رابطے کا امپیکٹ، اور وکٹ ہٹنگ کا امکان۔ ان میں سے ایک بنیادی شرط بھی ناکام ہو تو اپیل ختم ہو سکتی ہے، اس لیے صرف بلند اپیل یا پیڈ پر زور دار آواز فیصلہ نہیں بناتی۔ ایم سی سی قانون 36، آئی سی سی کے مقابلہ جاتی ضوابط، امپائر کا اصل فیصلہ اور ڈی آر ایس کی ٹیکنالوجی ایک ساتھ کام کرتے ہیں۔ سب سے قابلِ عمل یاد رکھنے والی ترتیب ہے: “نو بال، بیٹ، پچنگ، امپیکٹ، وکٹ”؛ اسے ہر اپیل پر لگائیں اور بحث کافی کم ہو جائے گی۔ کھلاڑیوں کے لیے آخری مشورہ یہی ہے کہ گیند کی لائن کو پیڈ سے نہیں، بلے سے کنٹرول کریں۔

اگر یہ اصول آپ کے میچ تجزیے میں کام آ سکتے ہیں تو اگلے مرحلے کے لیے یہ رہنمائی دیکھیں۔

مزید کرکٹ بصیرت حاصل کریں

عام سوالات

سوال: کرکٹ میں ایل بی ڈبلیو کیا ہے؟

جواب: ایل بی ڈبلیو وہ آؤٹ ہے جس میں گیند نو بال نہ ہو، پہلے بلے سے نہ لگے، جسم سے وکٹوں کے سامنے ٹکرائے اور گیند کے وکٹ سے لگنے کا امکان ہو۔ گیند کا پچنگ مقام بھی اہم ہے، کیونکہ لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند پر شاٹ کی کوشش کی صورت میں عموماً ایل بی ڈبلیو نہیں دیا جاتا۔ ایم سی سی قانون 36 اس پورے فیصلے کی بنیاد ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ کیسے جانچیں؟

جواب: پہلے نو بال دیکھیں، پھر بلے سے رابطہ، پچنگ، امپیکٹ اور وکٹ ہٹنگ کو اسی ترتیب سے جانچیں۔ ڈی آر ایس میں الٹرا ایج بلے کے رابطے اور بال ٹریکنگ گیند کے متوقع راستے کی مدد دیتے ہیں۔ اگر پچنگ، امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ میں امپائرز کال ہو تو مقابلے کے ضابطے کے مطابق آن فیلڈ فیصلہ برقرار رہ سکتا ہے۔

سوال: ایل بی ڈبلیو اور بولڈ میں کیا فرق ہے؟

جواب: بولڈ میں گیند براہِ راست وکٹ سے ٹکراتی ہے، جبکہ ایل بی ڈبلیو میں جسم وکٹ کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ایل بی ڈبلیو کے لیے نو بال، پہلے بلے سے رابطہ، پچنگ اور امپیکٹ جیسی اضافی شرائط دیکھی جاتی ہیں۔ بولڈ میں گیند کا اسٹمپ سے براہِ راست ٹکرانا کافی ہوتا ہے، چاہے وہ پہلے پیڈ کو نہ چھوئے۔

سوال: لیگ اسٹمپ کے باہر پچ ہونے والی گیند ایل بی ڈبلیو کیوں نہیں ہوتی؟

جواب: شاٹ کھیلنے کی کوشش کی صورت میں قانون لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ کو ایل بی ڈبلیو سے خارج کرتا ہے۔ یہ اخراج گیند کے بعد میں اندر آنے یا وکٹ ہٹنگ دکھانے کے باوجود عام طور پر برقرار رہتا ہے۔ تاہم اگر گیند لیگ اسٹمپ کے باہر پچ نہیں ہوئی، یا پچنگ کی تشریح مختلف ہو، تو باقی شرائط کی بنیاد پر فیصلہ دوبارہ جانچا جاتا ہے۔

سوال: نو شاٹ پر ایل بی ڈبلیو کا قانون کیا ہے؟

جواب: اگر بلے باز نے شاٹ کھیلنے کی کوشش نہیں کی تو لیگ اسٹمپ کے باہر پچنگ کا اخراج اسی طرح لاگو نہیں رہتا۔ پھر بھی گیند کا پہلے بلے سے نہ لگنا، جسم سے رابطہ اور وکٹ ہٹنگ ثابت ہونا ضروری ہے۔ اس لیے نو شاٹ صرف ایک پابندی ہٹاتا ہے؛ یہ خودکار آؤٹ نہیں بناتا۔

سوال: اگر گیند پہلے بلے سے لگے اور پھر پیڈ کو چھوئے تو کیا ہوگا؟

جواب: گیند پہلے بلے سے لگے تو بلے باز ایل بی ڈبلیو نہیں ہوتا۔ الٹرا ایج، سلو موشن اور دستیاب ویڈیو سے رابطے کی ترتیب دیکھی جاتی ہے، خاص طور پر جب بلہ پیڈ کے بہت قریب ہو۔ اگر رابطہ تقریباً بیک وقت ہو تو قانون میں بلے سے لگنے کو ترجیح دی جاتی ہے، مگر حتمی فیصلہ امپائر اور ریویو ثبوت پر منحصر ہوتا ہے۔

سوال: امپائرز کال کا ایل بی ڈبلیو پر کیا اثر ہے؟

جواب: امپائرز کال کا مطلب ہے کہ ٹیکنالوجی کی حد کے اندر اصل امپائر کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔ یہ صورت پچنگ، امپیکٹ یا وکٹ ہٹنگ میں سامنے آ سکتی ہے، اور ریویو ضائع ہونے کا طریقہ مقابلے کے قواعد سے طے ہوتا ہے۔ اسی لیے گرافک میں گیند کا کچھ حصہ اسٹمپ سے ٹکراتا دکھائی دے تب بھی فیصلہ لازماً تبدیل نہیں ہوتا۔

یہ مکمل وضاحت ختم ہوئی؛ اب اگلی ایل بی ڈبلیو اپیل پر شور سے پہلے پانچ مرحلے گن لینا، فائدہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین